menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

28Wi Tarmeem Ki Bazgasht

22 0
07.07.2026

اٹھائیسویں ترمیم کی بازگشت

پاکستان کی سیاست میں بسا اوقات اصل خبریں تقریروں کے الفاظ میں نہیں بلکہ ان کے درمیان چھپے اشاروں میں ہوتی ہیں۔ وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کا پنجاب بار کونسل لائرز اکیڈمی کی افتتاحی تقریب سے خطاب بھی بظاہر ایک معمول کی تقریب کا معمول کا خطاب تھا، مگر غور سے سنا جائے تو اس میں مستقبل کی ایک بڑی آئینی پیش رفت کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے اس تقریر میں آئندہ آنے والی اٹھائیسویں آئینی ترمیم کی بازگشت سنائی دی۔ وزیرِ قانون نے ججوں کی تقرری کے لیے سات رکنی کمیٹی کے قیام، امیدواروں کے انٹرویوز، ججوں کی سالانہ کارکردگی کے جائزے اور غیر تسلی بخش کارکردگی کی صورت میں ریفرنس بھیجنے کے امکانات کا ذکر کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کی طرح اگر ضرورت پیش آئی تو 28ویں آئینی ترمیم بھی مشاورت سے لائی جائے گی۔

بظاہر یہ چند انتظامی اور قانونی نکات تھے، لیکن درحقیقت یہ ریاستی ڈھانچے میں اختیارات کی نئی صف بندی کا اعلان محسوس ہوتے ہیں۔ پاکستان کی آئینی اور سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی بڑی آئینی تبدیلی کی تیاری ہوتی ہے تو اس کی ابتدائی سرگوشیاں اسی نوعیت کے بیانات سے شروع ہوتی ہیں۔ آج بھی منظر نامہ کچھ مختلف نہیں۔ اگرچہ سیاسی افق پر ابھی........

© Daily Urdu (Blogs)