Takabur Ke Batn Se Ubharta Taasub Qaum Se Hajoom Tak Ka Safar
تکبر کے بطن سے ابھرتا تعصب قوم سے ہجوم تک کا سفر
بندن میاں نے حقے کی نڑ ہونٹوں سے ہٹائی ایک گہرا اور طویل سانس کھینچا اور تمباکو کی خوشبو سے رچے ہوئے دھوئیں کے مرغولوں کو صحن کے وسط میں کھڑے نیم کے بوڑھے اور گھنے درخت کی شاخوں میں آہستہ آہستہ گم ہوتے دیکھتے رہے۔ ان کی کشادہ پیشانی پر ابھری گہری لکیریں بیتے زمانوں کی داستانِ زوال و کمال کا سرورق معلوم ہوتی تھیں جہاں زندگی کے گرم و سرد تجربات کی تپش اور مشاہدات کی سچائی کندہ تھی۔ انہوں نے ایک بار پھر ناک کی ڈنڈی پر پھسلتی ہوئی اپنی پرانی عینک کو سنبھالا۔ سامنے چٹائی پر دوزانو بیٹھے نوجوانوں پر اپنی شفیق، رعب دار مگر گہری سنجیدگی سے لبریز نظر ڈالی اور دھیمے، مدھر مگر بھاری اور دل نشیں لہجے میں گویا ہوئے کہ میاں سنو اور کان دھر کر سنو کہ یہ جو دنیا کے چوراہوں پر تعصب کی دکانیں سجی ہیں یہ جو انسان دوسرے انسان کا لہو بہانے پر تلا بیٹھا ہے یہ کوئی ناگہانی آفت نہیں اور نہ ہی یہ بذاتِ خود کوئی ایسی نوخیز بیماری ہے جو اچانک آسمان سے اتری ہو۔
فنِ طبابت اور الٰہیاتی حکمت کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ جب انسانی جسم یا روح میں کوئی خرابی جنم لیتی ہے، تو نبض شناس اور حاذق معالج سب سے پہلے اس کے ظواہر یعنی اس کے آثار و علامات کا موازنہ کرتا ہے۔ پھر گہری فکری تفتیش کے بعد اس ناسور کی اصل جڑ اور باطنی سبب تک رسائی حاصل کرتا ہے اور آخرکار معالجے کا کاری تیشہ اسی جڑ پر چلاتا ہےکیونکہ اگر تم صرف ظاہر کی تپش کو ادویات سے دبا دو گے، اگر پھوڑے پر وقتی مرہم پٹی کرکے مطمئن ہو جاؤ گے اور خون کے اندر رچے ہوئے مسموم مادوں کو نظر انداز کر دو گے، تو وہ مرض کسی نہ کسی دوسری وحشت ناک صورت میں، کسی دوسرے عضو سے دوبارہ پھوٹ نکلے گا اور پورے وجود کو اندر ہی اندر خاکستر کر دے گا۔
بالکل اسی طرح، یہ تعصب جو تمہیں اجنبیوں سے نفرت کرنے، اپنے قبیلے، اپنی زبان، اپنے جغرافیے، اپنے مسلک اور اپنے رنگ و نسل کو دوسروں سے برتر سمجھنے پر اکساتا ہے۔ یہ کوئی بنیادی بیماری نہیں ہے بلکہ یہ تو اس اصل، قدیم، خفیہ اور مہلک ترین باطنی مرض کی صرف ایک تپتی ہوئی علامت ہے جس کا نام "تکبر" ہے۔ ایک ایسا ازلی و ابدی روحی مرض جو انسانی وجود کے نہاں خانوں میں اس وقت انگڑائی لیتا ہے جب بندگی کا احساس مٹ جاتا ہے اور انسان کے اندر کا ابلیس جاگ کر اسے اپنی ہی نظر میں دوسروں سے بڑا، محترم، معتبر اور لائقِ سجدہ بنا کر پیش کرتا ہے۔
یہی وہ باطنی خباثت ہے میرے بچے، جسے ہماری دنیا کبھی فخر کا خوبصورت نام دیتی ہےکبھی اسے خودداری کے پردے میں غرور کہتی ہےکبھی گھمنڈ اور کبھی فرعونی رعونت کے شاہانہ لبادے میں سجا کر پیش کرتی ہے مگر اس کا اصل جوہر اور اندرونی حقیقت صرف ایک ہی کلمے میں پنہاں ہے کہ میں برتر ہوں اور دوسرا کمتر ہے۔ یہ تکبر بڑا عیار، چالاک اور بہروپیا ہے یہ صرف اقتدار کے سنگھاسن، تاج و تخت یا سونے چاندی کی جھنکار سے ہی جنم نہیں لیتا، بلکہ یہ حسن و جمال کی سرخی و رعنائی کا بھی ہو سکتا........
