menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Project Ka Akhri Manzar

23 0
20.07.2026

پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتِ حال کا سب سے بنیادی سوال یہ نہیں کہ عمران خان جیل سے کب باہر آئیں گے۔ اصل سوال یہ ہے کہ انھیں سیاسی میدان سے نکالنے کی کوشش میں ریاست نے ملک کی جمہوری سیاست، عدلیہ، ذرائع ابلاغ، وفاقی اکائیوں اور شہری آزادیوں کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے؟ کیا ایک شخص کے سیاسی منصوبے کو ڈبے میں بند کرنے کے لیے پورے ملک کو ایسی تجربہ گاہ بنا دیا گیا ہے جہاں انتخابات تو ہوتے ہیں، مگر اقتدار کا فیصلہ عوام کے ووٹ سے پہلے غیر منتخب طاقت کے مراکز میں ہوچکا ہوتا ہے؟

یہ تسلیم کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ جسے آج "عمران خان پروجیکٹ" کہا جاتا ہے، اس کی تعمیر بھی اسی سیاسی انجینئرنگ، عدالتی انتظام، ذرائع ابلاغ کے دباؤ اور انتخابی بندوبست کے ذریعے ہوئی تھی جس کا شکار بعد میں خود عمران خان اور ان کی جماعت بنے۔ تحریکِ انصاف کے دور میں حزبِ اختلاف کے رہنماؤں کی گرفتاریاں، ذرائع ابلاغ پر دباؤ، سیاسی مخالفین کی کردار کشی اور مقتدر فوجی قیادت کے ساتھ یک جان دو قالب ہونے کا تاثر ہماری قریب کی تاریخ کا حصہ ہے۔ لیکن کسی سابق غیر جمہوری بندوبست کا جواب پورے سیاسی نظام کو مزید غیر جمہوری بنانا نہیں ہوسکتا۔ ایک تیار کردہ سیاسی منصوبے کو ختم کرنے کے لیے اگر آئین، پارلیمان، انتخابات اور بنیادی حقوق ہی کو بے معنی بنادیا جائے تو مسئلہ ایک رہنما کا نہیں رہتا، پورے ریاستی ڈھانچے کا بحران بن جاتا ہے۔

پاکستان کی فوجی افسر شاہی کا دیرینہ طریقۂ کار یہ رہا ہے کہ پہلے کسی سیاست دان کو قومی نجات دہندہ بنایا جاتا ہے، اسے ذرائع ابلاغ، عدالتوں اور انتظامی قوت کے ذریعے سیاسی برتری دلوائی جاتی ہے، پھر اختلاف پیدا ہونے پر وہی شخص بدعنوان، نااہل، غدار یا قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار پاتا ہے۔ عمران خان اس چکر کی آخری مثال ہوسکتے ہیں، پہلی نہیں۔ مسئلہ عمران خان کی شخصیت سے بڑا ہے۔ مسئلہ وہ کارخانہ ہے جہاں سیاسی رہنما بنائے، استعمال کیے اور پھر ناکارہ سمجھ کر ڈبے میں بند کردیے جاتے ہیں۔

عمران خان سے تصادم کے بعد ریاستی کارروائی صرف تحریکِ انصاف تک محدود نہیں رہی۔ سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں، احتجاجی اجتماعات کی بندش، انتخابی نتائج پر سنگین سوالات، انٹرنیٹ اور سماجی ذرائع ابلاغ میں رکاوٹوں، ذرائع ابلاغ پر دباؤ اور پارلیمان کی بے اختیاری نے مل کر ایک ایسے نظام کو جنم دیا جس میں جمہوری ادارے موجود تو ہیں، مگر فیصلہ سازی کا حقیقی اختیار کہیں اور دکھائی دیتا ہے۔ عمران خان کی گرفتاری 5 اگست 2023ء کو ہوئی تھی اور اب تحریکِ انصاف نے ان کی قید کے تین سال مکمل ہونے پر 5 اگست 2026ء سے ملک........

© Daily Urdu (Blogs)