menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Aaj Te Tata, Birla Ko Pehchano

20 0
26.03.2026

آج کے ٹاٹا، برلا کو پہچانو

کامریڈ بھگت سنگھ اپنے گھر میں اپنے چچا اجیت سنگھ کو اپنا ہیرو اور آئیڈیل مانتے تھے۔ اجیت سنگھ انڈین رائل آرمی کے سابق فوجی تھے۔ فوج میں گزارے ہوئے عرصے میں ان کے بہت سے ایسے ساتھی تھے جو بعد میں قومی آزادی کے معروف انقلابی لیڈر بن کر ابھرے۔ سابق فوجی ہونے کے ناطے انھیں ساندل بار لائلپور میں نئی قابل کاشت کالونی زمینوں میں سے گوجرہ کے ایک نئے چک میں ساڑھے 12 ایکٹر بے آباد رقبہ الاٹ ہوا اور ان کا خاندان یہاں پر منتقل ہوگیا۔ یہیں پر بھگت سنگھ کا 1917ء میں جنم ہوا۔

بھگت سنگھ کی پیدائش سے 12 سال پہلے 1905ء کے آخری مہنیوں میں پنجاب کی کینال کالونیز میں آبادکار اور الاٹی غریب کسانوں نے انگریز حکومت کی جانب سے بے آبسد رقبوں کو آباد کرنے پر ساڑھے بارہ ایکٹر رقبہ ان کی ملکیت کرنے کا وعدہ کیا تھا جو وعدہ انگریز سرکار نے پورا نہ کیا۔ اس دوران پنجاب حکومت نے آبیانے کے دام بھی بڑھا دیے۔ یہ سال وہ تھے جب فصلیں بھی اچھی نہیں ہوئی تھیں۔ کسان ایک طرف تو ملکیت دینے کے وعدے سے منحرف ہونے پر سخت ناراض تھے تو دوسری جانب وہ آبیانے کے ریٹ بڑھائے جانے پر سخت بے چین تھے۔ انھوں نے کراڑوں سے مہنگے شرح سود پر قرضے اٹھائے تھے انھیں بیاض ادا کرنے کے لیے اپنے ڈھور ڈنگر تک فروخت کرنے پڑے تھے۔ حکومت نے کالونائزیشن ایکٹ میں ترامیم کرکے کینال کالونیز کے الاٹی کسانوں کا جینا دوبھر کردیا تھا۔

اس صورت حال میں کسانوں نے اپنے مطالبات منوانے کے لیے "پگڑی سنبھال او جٹا" تحریک شروع کی۔ اس تحریک کا سب سے زیادہ زور لائلپور ضلع، منٹگمری ضلع اور ملتان ضلع میں کینال کالونیز میں تھا۔ بھگت سنگھ کے چچا اجیت سنگھ اس تحریک کے صف اول کے رہنماء تھے۔ اس تحریک کے تحت کینال کالونیز میں بڑی بڑی کسان کانفرنسوں کا انعقاد ہوا۔

1905ء کے آخر میں ایسی ہی ایک بہت بڑی کسان کانفرنس آج کے ضلع خانیوال کی تحصیل........

© Daily Urdu (Blogs)