Siasi Hukumat Aur Pasdaran Mein Kashmakash
سیاسی حکومت اور پاسداران میں کشمکش
ایران میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد کی پیشرفت کو صرف قیادت کی تبدیلی نہیں بلکہ پورے ایرانی نظام کی تشکیل نو کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ایران کو اندرونی جانشینی، پاسداران انقلاب کے مستقبل اور خطے میں اپنے اثر و رسوخ کے سکڑنے جیسے بڑے چیلنجوں کا بیک وقت سامنا ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای کا جنازہ خود ایک بڑا سیاسی مظاہرہ تھا۔ المجلہ کے مطابق یہ صرف سوگ کی تقریب نہیں بلکہ اس بات کا اعلان تھا کہ ریاست اپنے سب سے طاقتور رہنما کے بغیر بھی قائم رہے گی۔ حکومت نے لاکھوں افراد کی شرکت، وسیع سکیورٹی انتظامات اور غیر ملکی وفود کی موجودگی کے ذریعے یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ نظام میں کوئی خلا پیدا نہیں ہوا۔ لیکن اسی تقریب میں ایک بڑا سوال بھی پیدا ہوا کہ نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای خود منظر عام پر کیوں نہیں آئے؟
المجلہ کے تجزیہ نگاروں کے مطابق یہی غیر حاضری تقریب کا سب سے معنی خیز پہلو تھی۔ اگرچہ ریاست نے بیعت، تسلسل اور استحکام کا تاثر دیا، لیکن مجتبیٰ خامنہ ای کی عدم موجودگی نے یہ تاثر بھی پیدا کیا کہ اقتدار کی منتقلی مکمل طور پر ہموار نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ عہدہ تو فوراً منتقل ہوسکتا ہے، لیکن وہ شخصی اختیار اور سیاسی وزن منتقل نہیں ہوسکتا جو علی خامنہ ای نے چار دہائیوں میں حاصل کیا تھا۔
آیت اللہ خمینی نے........
