menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

China Naraz, Akhir Kyun?

17 0
20.05.2026

شام کی خانہ جنگی ابتدا میں مقامی بغاوت تھی، لیکن چند ہی برسوں میں یہ دنیا کی سب سے بڑی پروکسی جنگ بن گئی۔ اس جنگ میں صرف شامی حکومت اور باغی آمنے سامنے نہیں تھے بلکہ ایران، خلیجی ممالک، ترکی، روس، امریکا، کرد فورسز، جہادی تنظیمیں، اویغور جنگجو، لبنانی حزب اللہ، افغان اور پاکستانی شیعہ ملیشیائیں، سب کسی نہ کسی شکل میں شامل ہوگئے۔ یوں شام ایک ایسا میدان بن گیا جہاں عالمی اور علاقائی طاقتیں اپنے اپنے مفادات کے لیے لڑ رہی تھیں۔

عرب بہار کے اثرات 2011 میں شام پہنچے تو ابتدا میں مظاہروں کا مقصد صرف بشار الاسد کی حکومت سے سیاسی اصلاحات کا مطالبہ تھا۔ لیکن حکومت کے سخت کریک ڈاؤن نے حالات کو خانہ جنگی میں بدل دیا۔ جلد مختلف ممالک نے اس جنگ کو اپنے اپنے زاویے سے دیکھنا شروع کردیا۔ ایران نے اسے مزاحمتی محور کے دفاع کی جنگ قرار دیا۔ ترکی، قطر اور بعض خلیجی حلقے اسے سنی بغاوت سمجھ رہے تھے۔ امریکا اور یورپ کی نظر میں اسد حکومت آمرانہ تھی جسے کمزور کرنا ضروری تھا۔ روس نے اسے مشرق وسطیٰ میں اپنے اثرورسوخ کے تحفظ کا مسئلہ سمجھا۔

ایران اس جنگ میں سب سے پہلے اور سب سے گہرائی سے شامل ہونے والی طاقتوں میں تھا۔ اس کے لیے شام صرف اتحادی ملک نہیں بلکہ لبنان میں حزب اللہ تک رسائی کا پل تھا۔ ایران نے اسے نہ صرف مالی اور عسکری مدد فراہم کی بلکہ مختلف شیعہ ملیشیاؤں کو بھی شام بھیجا۔ لبنان کی حزب اللہ، عراق کی کتائب حزب اللہ اور عصائب اہل الحق، افغانستان کے شیعہ جنگجوؤں پر مشتمل فاطمیون بریگیڈ اور پاکستانی شیعہ رضاکاروں پر مشتمل زینبیون بریگیڈ، سب اسد حکومت........

© Daily Urdu (Blogs)