menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Moscow Se Makka (21)

18 1
02.02.2026

میری آزادی کے دن نزدیک تھے۔ احمد کے بلغم تھوکنے کا عذاب اور اس عمل کو سہنے کی میری اذیت ختم ہونے کو تھی۔ دو روز بعد احمد اور علی جانے والے تھے یعنی اس کے بعد میں پورے تین روز کمرے میں اکیلا رہ سکوں گا۔

نماز ظہر کے لیے حرم پہنچنے والی بس جب ہوٹل سے آ کر مروہ والی جانب، حرم سے خاصی دور بسوں کی پارکنگ کے لیے مخصوص ایک جگہ پر آ کر رکتی تھی تو وہاں سے ریستورانوں، انواع و اقسام کی اشیاء بیچنے والی دکانوں کے میلے کے سے سماں سے گزر کر، مصروف سڑک پار کرنے کے بعد خاصا چلنا پڑتا تھا۔ جہاں سے حرم میں داخل ہوتے تھے وہ مروہ اور صفا کے درمیاں سعی کے لیے بنائی گئی تیسری منزل ہوتی تھی۔ وہاں درمیان میں پہنچ کر مسجدالحرام کی چھت پہ نکلا جاتا تھا جو دراصل مطاف بھی تھا جو بہت طویل تھا اور پھرخودکارزینوں کے ذریعے نیچے جانا ہوتا تھا۔ دھوپ اس قدر زیادہ ہوتی تھی کی ٹھنڈی راہداری میں پہنچنے کے بعد اس روزمجھ میں چھت پہ نکلنے اورپھر نیچے جا کرمشکل سے نماز کے لیے جگہ ڈھونڈنے کی ہمّت نہیں ہوئی تھی۔ میں نے چھت کی طرف کھلنے والے دروازے کے سامنے ہی نماز پڑھنے کا طے کیا تھا۔ جاء نمازوں پہ یا خالی فرش پہ لوگ پہلے ہی چھوٹی چھوٹی صفیں باندھے ہوئے تھے۔ ایک پانچ چھ افراد کی صف کے دائیں جانب میں بھی کھڑا ہوگیا تھا۔

مسجد الحرام اور مسجد نبوی دونوں میں باجماعت نماز کے دو تین منٹ بعد ہی عربی زبان میں نماز جنازہ پڑھانے کا اعلان ہو جایا کرتا تھا۔ اس روز بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ مجھے یہ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ مجھے اس بارے میں کہ نماز جنازہ میں کیا پڑھا جاتا ہے، کے بارے میں علم نہیں تھا۔ ابھی ہم نمازجنازہ پڑھنے کے لیے کھڑے ہی ہوئے تھے کہ دروازے سے ایک متشرع اور مناسب شخص داخل ہو ئے تھے اور میرے ساتھ کھڑے ہو گئے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا تھا، "مولانا! نماز جنازہ کی نیت کیسے کی جاتی ہے؟" انہوں نے کہا تھا کہ نماز جنازہ........

© Daily Urdu (Blogs)