Kya Pakistan Mein Taleem Ka Koi Faida Nahi?
کیا پاکستان میں تعلیم کا کوئی فائدہ نہیں؟
یہ سوال آج کے پاکستان میں صرف ایک سوال نہیں بلکہ ایک اجتماعی آہ ہے۔ وہ والدین جو فیسیں ادا کرتے کرتے تھک چکے ہیں، وہ نوجوان جو ڈگری ہاتھ میں لیے نوکری کی تلاش میں دربدر پھر رہے ہیں اور وہ اُستاد جو اپنے ادارے کے بند ہونے کا خوف دل میں لیے کلاس میں کھڑا ہے یہی سوال پوچھ رہا ہے کہ کیا واقعی تعلیم بے فائدہ ہو چکی ہے۔
جب ایک ریاست اپنے تعلیمی ادارے بند کرنا شروع کر دے، سکولوں کو پرائیویٹائز کرے، ہزاروں ملازمین کی سیٹس ختم کرے اور تعلیم کو فضول خرچ سمجھنے لگے تو وہاں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے ہزاروں سکولوں کو نجی شعبے کے حوالے کرنا اور مختلف محکموں میں لاکھوں آسامیوں کا خاتمہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک سماجی المیہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح بچت کرکے ملک ترقی کرے گا یا اپنی بنیادیں مزید کمزور کرے گا؟
دُنیا کی کوئی بھی ترقی یافتہ قوم تعلیم کو بوجھ نہیں سمجھتی۔ جاپان دوسری جنگِ عظیم کے بعد ملبے کا ڈھیر تھا مگر اس نے سب سے پہلے سکول اور یونیورسٹیاں مضبوط کیں۔ جنوبی کوریا نے غربت سے نکلنے کے لیے تعلیم کو ہتھیار بنایا۔ فن لینڈ آج دُنیا کے بہترین تعلیمی نظام کی مثال ہے۔ وہاں تعلیم مفت ہے کیونکہ ریاست جانتی ہے کہ تعلیم خرچ نہیں سرمایہ کاری ہے۔
نیلسن منڈیلا نے کہا تھا
Education is the most powerful weapon which you can use to change the world
تعلیم دُنیا بدلنے کا سب سے طاقتور ہتھیار ہے تو پاکستان میں یہی ہتھیار کیوں کمزور کیا جا رہا ہے؟
ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ تعلیم کو فوری منافع کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اگر کسی ادارے سے فوری پیسہ منافع کی صورت واپس نہ........
