Dada Jan Ki Thandi Chaun
دادا جان کی ٹھندی چھاؤں
کسی گاؤں کے کنارے ایک چھوٹا سا خاندان رہتا تھا جس میں احمد اپنے امی، ابو اور دادا جان کے ساتھ رہتا تھا۔ دادا جان بہت بوڑھے تھے۔ ان کے بال روئی کی طرح سفید تھے۔ چلتے وقت ان کے ہاتھ میں لکڑی کی چھڑی ہوتی۔ وہ آہستہ آہستہ چلتے، جیسے ہوا میں ہلتا ہوا پرانا درخت۔
احمد پانچویں جماعت میں پڑھتا تھا۔ وہ بہت شرارتی تھا۔ ہر وقت گلی میں دوستوں کے ساتھ کھیلتا رہتا۔ دادا جان اسے اکثر آواز دیتے۔
"بیٹا! ذرا پانی دے دو"۔
مگر احمد اپنے کان پر جُوں تک نہ رینگنے دیتا۔ وہ ہنستا اور بھاگ جاتا۔
ایک دن احمد کی امی نے کہا: "احمد! دادا جان کا خیال رکھا کرو۔ بوڑھے لوگ گھر کی ٹھنڈی چھاؤں ہوتے ہیں"۔
احمد نے منہ بنایا۔ "امی! میں ابھی کھیل رہا ہوں"۔
دادا جان خاموش ہو گئے۔ ان کی آنکھوں میں ہلکی سی اُداسی تیرنے لگی۔
اگلے دن سکول میں اُستاد نے بچوں کو ایک کہانی سنائی۔ انہوں نے کہا: "بچو! بوڑھے لوگ........
