menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Taleem Nahi, Sirf Hazri Darkar Hai

21 0
18.07.2026

تعلیم نہیں، صرف حاضری درکار ہے

ہمارے تعلیمی ادارے بتدریج اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں ان کی عمارتیں تو قائم ہیں، مگر ان کے بنیادی مقاصد رفتہ رفتہ تحلیل ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ کہنا شاید مبالغہ نہ ہو کہ اگر والدین اور طلبہ ایک دن پوری طرح یہ راز پا جائیں کہ آج کی بہت سی جامعات اور تعلیمی ادارے حقیقی معنوں میں علم گاہیں نہیں بلکہ محض ڈگریاں تقسیم کرنے والی فیکٹریاں، فیس وصول کرنے والے مراکز اور نام کے ساتھ "یونیورسٹی گریجویٹ" کا سابقہ و لاحقہ جوڑنے والی مشینیں بن چکے ہیں، تو شاید ان اداروں کی موجودہ صورت برقرار نہ رہ سکے۔

تعلیم کا مقصد کبھی صرف ڈگری دینا نہیں تھا۔ سکول اور جامعات کا قیام اس لیے عمل میں آیا تھا کہ وہ آزاد فکر، تنقیدی شعور، تحقیق، کردار سازی، فکری بالیدگی اور علمی تخلیق کے مراکز بنیں۔ مگر اگر ہم آج دیانت داری سے اپنے تعلیمی اداروں خاص کر جامعاتی نظام کا جائزہ لیں تو ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ بہت سی جامعات میں علم ثانوی حیثیت اختیار کر چکا ہے جبکہ رسمی تقاضے، غیر ضروری ضابطے اور ظاہری نظم و ضبط اصل مقصد پر غالب آ چکے ہیں۔ ایسے ماحول میں بعض اوقات سکول/یونیورسٹی جانا یا نہ جانا علمی اعتبار سے تقریباً برابر محسوس ہوتا ہے، بلکہ بہت سے طلبہ اپنی ذاتی محنت، مطالعے اور خود آموزی کے ذریعے اس سے کہیں بہتر تعلیم حاصل کر لیتے ہیں جو انہیں کلاس روم میں میسر آتی ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے آجکل کے اداروں میں بعض اوقات ذہانت، قابلیت اور غیر معمولی کارکردگی کو سراہنے کے بجائے انہی صفات کو سزا کا باعث بنا دیا جاتا ہے۔ ایک طالب علم جس نے ہر امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہو، اپنے مضامین پر مکمل دسترس رکھتا ہو، تحقیقی اور تحریری صلاحیت رکھتا ہو، مگر محض حاضری کے تناسب کی بنیاد پر اس کے سیشنل نمبر کاٹ دیے جائیں اور اس کو شرمندہ کیا جائے یا اس کی تذلیل کی جائے تو سوال صرف ایک طالب علم کا نہیں رہتا، بلکہ پورے نظامِ تعلیم کی ترجیحات پر اٹھتا ہے۔

اس موقع پر عموماً ایک جملہ بڑی قطعیت کے ساتھ کہا جاتا ہے: "Rule is a rule, and rules are equal for everyone"

بلاشبہ، قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔ لیکن دنیا کا کوئی بھی مہذب نظام ایسا نہیں جہاں قوانین کو مقدس صحیفوں کی طرح ناقابلِ ترمیم سمجھ لیا جائے۔ قوانین انسان کے لیے ہوتے ہیں، انسان قوانین کے لیے نہیں۔ جب کوئی ضابطہ انصاف کے بجائے ناانصافی پیدا کرنے لگے، جب وہ اہل کو سزا اور نااہل کو محض رسمی تقاضے پورے کرنے پر انعام دینے لگے، تو ایسے قانون پر نظرِ ثانی نہ صرف........

© Daily Urdu (Blogs)