menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Bhai Nanha

41 0
10.08.2026

دروازئے پر دستک ہوئی تو ہم بچے دوڑ کر دروازہ کھولنے پہنچے تو سامنے ایک بہت ہی بوڑھی خاتون کھڑی تھی۔ سفید بال اور بڑھاپے کی جھریوں سے بھرا چہرا پہلی مرتبہ دیکھ کر پوچھنا پڑا کہ اماں جی! کس سے ملنا ہے تو وہ مسکرائی اور کہنے لگی بھائی ننھے سے ملنا ہے۔ کیا ان کا گھر یہی ہے تو میری چھوٹی بہنوں نے کہہ دیا نہیں اماں جی! یہ تو لفٹیننٹ محمد ایاز خان کا گھر ہے۔ اتنے میں اباجی بھی دروازئے پر آگئے انہیں دیکھتے ہی وہ بوڑھی خاتون "بھائی ننھا" کہہ کر ان کے گلے لگ کر رونے لگی وہ بڑی مشکل برسوں بعد ٹنڈواللہ یار سے ملنے کے لیے اپنے ماموں "بھائی ننھے" کے گھر پہنچی تھی مگر بچوں کو بھلا کیا پتہ کہ ان کے باپ کو بچپن سے محبت میں "بھائی ننھا" کہہ کر ہی پکارا جاتا ہے۔

کئی دھائیوں کے بعد ملنے والی یہ خاتون اسی محبت بھرئے نام سے پکار رہی تھی جو ہمارئے اباجی کے والدین نے بچپن میں رکھا تھا۔ پھر مجھے یاد آیا کہ میرےدادا جان اور دادی جان یہاں تک کہ بڑے بھائی بھی اباجی کو ہمیشہ ننھا کہہ کر پکارتے تھے۔ اباجی اپنے اس نام پر ہمیشہ فخر کرتے تھے اور بتاتے تھے میں آٹھ ماہ کا پیدا ہوا تھا اور بہت کمزور اور چھوٹا سا تھا تو ہماری ایک تائی "مصوما" نے ننھا کہہ کر پکارا تو پھر خاندان بھر میں پیار سے مجھے "ننھا" ہی پکارا جاتا تھا۔ دراصل وہ بزرگ "ننھا" کہہ کر بے ساختگی سے اپنی اپنائیت اور دیرینہ محبت کا اظہار کرتے تھے۔

میری ایک اور عزیزہ پوتے پوتیوں اور نواسوں والی ہو چکی ہے مگر میں اسے ہمیشہ "بے بی" کہہ کر بلاتا ہوں اور حقیقت یہ بھی ہے کہ مجھے آج بھی اس کا اصل نام یاد نہیں ہے البتہ اب وہ "بےبی" کی بجائے........

© Daily Urdu (Blogs)