menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

23 March 1940

51 0
13.03.2026

قوموں کی زندگی اور آگے بڑھنے کی رفتار میں نصب العین کے بروقت تعین کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔ 23 مارچ 1940ء کا دن اس لحاظ سے مسلمانانِ برصغیر کے لئے تاریخ ساز تھا کہ اس روز انھوں نے اپنے نصب العین اور منزل کا تعین کیا۔ خطہء لاہور کے منٹو پارک (موجودہ گریٹر اقبال پارک) میں قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں آل انڈیا مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس 22 تا 24 مارچ منعقد کیا گیا جس میں مولانا فضل الحق نے " قرارداد لاہور" پیش کی۔

اس قرارداد کی رو سے مسلمانوں نے متحد ہوکر اپنی منزل کا تعین اس انداز سے کیا: " آل انڈیا مسلم لیگ کا یہ اجلاس نہایت غور و خوض کے بعد اس ملک میں مسلمانوں کے لئے صرف ایسے آئین کو قابلِ عمل اور قابلِ قبول قرار دیتا ہے جو جغرافیائی اعتبار سے باہم متصل خطوں کی صورت میں حد بندی کا حامل ہو اور بوقتِ ضرورت ان میں اس طرح ردوبدل ممکن ہو کہ جہاں جہاں مسلمانوں کی اکثریت بہ اعتبارِ تعداد ہو، جیسے کہ ہندوستان کے شمال مغربی اور مشرقی علاقے ہیں، انہیں آزاد ریاستوں کی صورت میں یکجا کردیا جائے اور ان میں شامل ہونے والی وحدتیں خود مختار اور حاکمیت اعلیٰ کی حامل ہوں"۔

نیز اس قرارداد میں 'اقلیتوں کے حقوق' کے تحفظ کی خصوصی ضمانت دی گئی تھی۔ قرارداد کی تائید میں چوہدری خلیق الزماں، خان اورنگ زیب خان، حاجی سر عبداللہ ہارون، نواب اسماعیل خان، قاضی محمد عیسیٰ، بیگم مولانا محمد علی جوہر، آئی آئی چندریگر، مولانا عبد الحامد بدایونی اور دیگر راہنماؤں نے بھی تقاریر کیں۔ اپنی منزل کے تعین کے بعد مسلمان صرف سات سال کے قلیل عرصے میں آزاد وطن کو پانے میں کامیاب ہوگئے۔

اس سے قبل قائد اعظم محمد علی جناح نے ایک مضمون (شائع ٹائم اینڈ ٹائیڈ لندن) میں لکھا تھا: " پارلیمانی نظام ہندوستان کے حالات سے مطابقت نہیں رکھتا، اس لئے ایک ایسا آئین سامنے آنا چاہئیے کہ جس میں اس بات کو تسلیم کیا گیا ہو کہ ہندوستان میں دو قومیں آباد ہیں جن کو اپنے مادر_وطن کی حکومت میں مساوی حقوق ملنے چاہئیں، اس بنیاد پر مسلمان، حکومت برطانیہ، کانگریس یا کسی........

© Daily Urdu (Blogs)