menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Ye Hai Karachi

20 0
24.05.2026

شہر کراچی کو اگر سمجھنا ہے تو لاہور سے نکل کر آپ کو "یونیورسٹی روڈ" کی خاک چھاننا ہوگی، کراچی جو کبھی پاکستان کا دارالحکومت ہوتا تھا، ایسا لگتا تھا کہ یہ شہر نہیں بلکہ شہروں کا بادشاہ ہے۔ آج یہ شہرِ قائد " کسمپرسی" کی حالت میں دنیا کہ نقشے پر ان نام نہاد سیاست دانوں اور وڈیروں کی عدم توجہی کا شکار ہے۔

یہاں ایک ہی وقت میں دو مختلف زندگیاں چل رہی ہیں، جو ایک دوسرے کے قریب ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے بہت دور ہیں اور یہی اس شہر کی سب سے بڑی سچائی ہے۔ کراچی کی بدقسمتی یہ ہے کہ جن ہاتھوں میں کراچی کی باگ دوڑ ہے، وہ اس قابل ہی نہیں کہ شہر کی قیادت کریں۔ آپ ان کی نااہلی کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ ڈی ایچ اے تا ڈی ایچ اے ایک سڑک تو چند مہینوں میں بن جاتی ہے لیکن یونیورسٹی روڈ پتہ نہیں کتنے سالوں سے ان نام نہاد سیاست دانوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے؟

صبح کا وقت ہو تو کراچی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جاگتا ہے۔ سڑکوں پر رش، ہارن، جلدی اور ایک ایسی بھاگ دوڑ جو کبھی رکتی نہیں۔ لیکن اگر آپ غور کریں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ یہ بھاگ دوڑ سب کے لیے ایک جیسی نہیں۔

کچھ لوگ آرام سے نکلتے ہیں، ہموار سڑکوں پر سفر کرتے ہیں اور وقت پر پہنچ جاتے ہیں۔ ان کے برعکس کچھ لوگ سفر تو کرتے ہیں لیکن ہر روز کسی ایک نئے مسئلے کے ساتھ، کبھی ٹوٹی سڑک، کبھی ٹریفک جام، کبھی بارش کا پانی اور کبھی بس کا نہ ختم ہونے والا انتظار۔

یہی وہ فرق ہے جو اس شہر کو صرف ایک شہر نہیں رہنے دیتا۔ جیساکہ سید ضمیر جعفری نے اپنی مشہورِ زمانہ نظم میں کہا تھا کہ "جواں کچھ سرِ پائے داں اور بھی ہیں۔۔ معلق بخود رفتگاں اور بھی ہیں۔۔........

© Daily Urdu (Blogs)