menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Bhoot

19 0
13.09.2026

وہ اسے "بھوت" کہتی تھی۔ نہیں، وہ کوئی بھوت نہیں تھا۔ نہ اس کے چہرے پر کوئی خوفناک شکل تھی، نہ وہ رات کے اندھیرے میں غائب ہو کر واپس آتا تھا۔ وہ ایک بالکل عام سا لڑکا تھا، مگر اس لڑکی کے لیے وہ عام نہیں تھا۔

وہ اس سے محبت کرتی تھی۔ اتنی محبت کہ شاید اسے خود بھی اندازہ نہیں تھا کہ یہ محبت اس کے دل میں کتنی جگہ بنا چکی ہے۔

ایک دن لڑکے نے ہنستے ہوئے اس سے پوچھا: "تم مجھے بھوت کیوں کہتی ہو؟"

لڑکی مسکرائی اور بولی: "کیونکہ جو بھوت ہوتے ہیں نا، وہ کبھی پیچھا نہیں چھوڑتے۔ وہ کہیں نظر آئیں یا نہ آئیں، انسان کو محسوس ہوتے رہتے ہیں۔ میں چاہتی ہوں تم بھی کبھی مجھے چھوڑ کر نہ جاؤ"۔

اس وقت اسے کیا معلوم تھا کہ بعض باتیں ہم ہنستے ہوئے کہہ دیتے ہیں، مگر زندگی انہیں کبھی کبھی ہمارے سامنے ایک سوال بنا کر کھڑا کر دیتی ہے۔

اور لڑکی کی دنیا جیسے وہیں رک گئی۔

وہ روتی تھی، چلاتی تھی، بہت زیادہ بولنے والی، خاموش رہتی تھی، پھر روتی تھی۔ کبھی اسے لگتا تھا وہ سانس تو لے رہی ہے، مگر زندہ نہیں ہے۔

اسے لگتا تھا کہ اس کے بغیر زندگی کا کوئی مطلب نہیں۔

اس کی ٹانگیں جیسے اس کا ساتھ چھوڑ گئی تھیں۔ جسم میں جان تھی۔ مگر دل بے جان تھا، چلنے کی ہمت نہیں تھی۔ آنکھیں کھلی تھیں، مگر مستقبل دکھائی نہیں دیتا تھا۔

وہ سوچتی تھی: "یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ شخص........

© Daily Urdu (Blogs)