menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Aap Akele Nahi Hain

11 0
yesterday

کبھی کبھی انسان لوگوں کے ہجوم میں بھی خود کو اکیلا محسوس کرتا ہے۔ دل کے اندر ایک عجیب سا خلا، ایک خاموشی اور ایک بے نام سی اداسی گھر کر لیتی ہے۔ دل ٹوٹنے کے بعد انسان صرف روتا ہی نہیں بلکہ اندر سے خاموش ہو جاتا ہے۔ اسے لگتا ہے جیسے اب کوئی سننے والا نہیں، کوئی سمجھنے والا نہیں اور کوئی اس کے درد کو محسوس کرنے والا نہیں۔ وہ اپنے اندر ہی اندر ایک جنگ لڑ رہا ہوتا ہے، ایک ایسی جنگ جسے دنیا نہیں دیکھتی مگر وہ ہر روز اس سے گزر رہا ہوتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ آپ اکیلے نہیں ہیں۔

اس دنیا میں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں لوگ ایسے ہیں جن کا دل ٹوٹا، جنہیں تکلیفیں دی گئیں، جنہیں نظر انداز کیا گیا، جن کے جذبات کو سمجھا نہیں گیا۔ مگر ان سب میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جنہوں نے دل ٹوٹنے کے بعد خود کو ختم نہیں کیا بلکہ اللہ سے اپنا تعلق جوڑ لیا۔ انہوں نے اپنے آنسوؤں کو دوا بنا لیا، اپنی خاموشی کو عبادت بنا لیا اور اپنی تکلیف کو اللہ کی رضا کے لیے صبر میں بدل دیا۔

یہ لوگ وقت ضائع نہیں کرتے۔ ان کا اٹھنا بیٹھنا، بولنا، سجنا سنورنا، لوگوں سے ملنا جلنا، سب کچھ صرف اللہ کی رضا کے لیے ہو جاتا ہے۔ وہ زندگی سے بھاگتے نہیں بلکہ زندگی کو اللہ کے سپرد کر دیتے ہیں۔ وہ شکایت کم اور شکر زیادہ کرنا سیکھ لیتے ہیں۔ وہ لوگوں سے توقع کم اور اللہ پر بھروسہ زیادہ کرنا سیکھ لیتے ہیں۔

اگر تکلیفیں اتنی ہی بری ہوتیں اور تکلیفوں کو برداشت کرکے انسان کندن نہ بنتا تو آج نبیوں اور پیغمبروں کو اتنی آزمائشیں نہ گزارا جاتا۔ ہم سب نے پڑھا ہے کہ اللہ کے پیارے بندے کتنی سخت تکلیفوں سے گزرے۔ انہیں دکھ، تنہائی، مخالفت، بھوک، تکلیف اور آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان سے زیادہ تکلیف تو اللہ نے ہمیں نہیں دی اور ان سے زیادہ محبت بھی اللہ تعالیٰ کسی سے نہیں کرتا۔ وہ تو اللہ کے حکم کے مطابق چلنے والے، اس کے محبوب بندے تھے، پھر بھی انہیں مشکلات سے گزارا گیا تاکہ دنیا کو صبر اور یقین کا راستہ دکھایا جا سکے۔

ہم تو عام اور کمزور بندے ہیں۔ کبھی نماز قضا ہو جاتی ہے، کبھی اللہ کے حکم کو بھول جاتے ہیں، کبھی اپنی خواہشات کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔ پھر بھی ہمارا رب ہمارے عیبوں پر پردہ ڈالے ہوئے ہے، ہماری غلطیوں کو چھپائے ہوئے ہے اور ہمیں سنبھالے ہوئے ہے۔ یہ اس کی بے پناہ رحمت ہے کہ وہ ہمیں بار بار موقع دیتا ہے، ہمیں گرنے کے بعد بھی اٹھنے کا راستہ دیتا ہے اور ہمیں اپنے قریب آنے کا موقع دیتا ہے۔

تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسے انسان کو بار بار یہ گلہ کرنا چاہیے کہ ہمارا دل ٹوٹا، ہمیں تکلیف دی گئی، ہمیں کوئی سمجھنے والا نہیں ملا؟

حقیقت یہ ہے کہ جب انسان اللہ کی رضا میں راضی ہونا سیکھ لیتا ہے تو شکایتیں آہستہ آہستہ ختم ہونے لگتی ہیں۔ دل ٹوٹنے کے بعد جو نفسیاتی جنگ شروع ہوتی ہے وہ آسان نہیں ہوتی۔ انسان خود سے لڑتا ہے، اپنے خیالات سے لڑتا ہے، اپنی یادوں سے لڑتا ہے، اپنی کمزوریوں سے لڑتا ہے۔ کبھی ہمت ہار جاتا ہے، کبھی خود کو سنبھال لیتا ہے، کبھی روتا ہے، کبھی خاموش ہو جاتا ہے۔ مگر آہستہ آہستہ وہ سمجھ جاتا ہے کہ اللہ کی رضا میں راضی رہنا ہی اصل سکون ہے اور یہی اصل کامیابی ہے۔

یہ انسان کا کمال نہیں ہوتا بلکہ یہ اللہ کی تربیت ہوتی ہے۔ اللہ جسے چاہتا ہے اسے آزمائشوں کے ذریعے سنوارتا ہے، اسے عاجزی سکھاتا ہے، اسے دوسروں کے درد کو سمجھنے والا بنا دیتا ہے۔ پھر وہی شخص دوسروں کے لیے رحمت بن جاتا ہے، لوگوں کو حوصلہ دیتا ہے، لوگوں کے آنسو پونچھتا ہے اور معاشرے کے لیے امید کی روشنی بن جاتا ہے۔

اگر آپ کا دل بھی ٹوٹا ہے، اگر آپ بھی تکلیف سے گزر رہے ہیں، اگر آپ بھی خود کو اکیلا محسوس کر رہے ہیں تو یاد رکھیں، آپ اکیلے نہیں ہیں۔

اللہ آپ کو بنا رہا ہے، سنوار رہا ہے اور ایک بہتر انسان بنا رہا ہے۔ بس شکایت کم کریں، دعا زیادہ کریں۔ مایوسی کم کریں، امید زیادہ رکھیں۔ لوگوں سے توقع کم رکھیں، اللہ پر بھروسہ زیادہ کریں۔ کیونکہ جس کا دل اللہ سے جڑ جاتا ہے، وہ کبھی اکیلا نہیں رہتا۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو صبر، رضا، عاجزی اور دوسروں کے لیے رحمت بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ اللہ کو آپ پر بھروسہ ہے وہ آپ کو جانتا ہے دوسروں کو صفائی دینے کی ضرورت نہیں خوش رہیں خوشیاں بانٹے۔


© Daily Urdu (Blogs)