menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Yulia Ki Neend (1)

15 1
16.01.2026

بولیووڈ نائٹ کلب سے نکلتے رات کے تین بج چکے تھے، رات گذارنے کیلئے ہم کسی قریبی ہوٹل کا رخ کرنا چاہتے تھے لیکن خرم چوہدری برہم ہوا "میرے ہوتے دوست اگر ہوٹل میں رات گذاریں تو میرے لئے باعث شرمندگی ہے، ہمارا سیمی پلاٹنسک والا ٹولا علی سہیل کی گاڑی میں سوار ہوا، خرم چوہدری بھی ہمارے ہمراہ تھا، جبکہ سرگئی اپنی گاڑی میں باقیوں کو ڈراپ کرنے چلا گیا، خرم رہنمائی کرتا رہا، سیمی پلاٹنسک کے مقابلے میں است کامن گورد کہیں بڑا، روشن اور زیادہ دلکش محسوس ہوا، ہر موڑ پر ترقی کی داستان نظر آتی تھی، گاری ایک بڑی بلڈنگ کی پارکنگ لاٹ میں جا رکی، ہم سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، چہروں پر تجسس اور ہلکی سی شرارت بھری مسکراہٹیں تھیں، سیڑھیاں چڑھتے ہوئے قدموں میں جوش تھا جیسے تیسری منزل پر کوئی راز منتظر ہو۔

خرم نے دروازے کے سامنے رکھے پاانداز کو اٹھایا، چابی تلاش کی، نہ ملی، بہتیرا تلاش کیا لیکن بے سود، آوازیں سن کر خرم کا ہمسایہ آنکھوں میں نیند کی جھلک لئے باہر نکلا، خرم نے اسے چابی کی گمشدگی کا بتایا اور ایک فون کرنے کی اجازت مانگی، ہمسائے نے خوش دلی سے اجازت دی، دو منٹ بعد خرم واپس آیا اور بولا "سرگئی کے فلیٹ پر چلتے ہیں، چابی کا جگاڑ کل صبح کریں گے"۔

سرگئی کا فلیٹ قریب ہی تھا، شوخ و چنچل مسکراہٹ کا پیکر یولیا نے دروازے پر ہمارا استقبال کیا، "شیطانوں کا ٹولا پھر سے آگیا ہے"۔ فلیٹ سادہ تھا، سنگل روم، چھوٹا کچن اور کشادہ ہال میں ایک طرف بستر پر سرگئی گہری نیند میں تھا، ہماری آوازوں نے اسے جگا دیا، وہ نیم باز آنکھوں سے مسکراتے ہوئے چادر اوڑھ کر پھر خوابوں کی دنیا میں لوٹ گیا، یولیا نے مہارت وسرعت سے فرش پر میٹرس بچھا دیے، اسی........

© Daily Urdu (Blogs)