Lahore Ki Gumnam Lalkurti
لاہور کی گمنام لال کرتی
لاہور کو جاننے کے لیے کبھی کبھی اس کی بڑی عمارتوں سے زیادہ اس کے چھوٹے اور بھولے ہوئے ناموں پر غور کرنا پڑتا ہے۔ کچھ نام وقت کے ساتھ مٹ جاتے ہیں، مگر ان کے پیچھے چھپی تاریخ شہر کی مٹی میں کہیں موجود رہتی ہے۔ لال کرتی بھی لاہور کی ایسی ہی ایک خاموش داستان ہے۔
یہاں ایک وضاحت ضروری ہے: اس تحریر میں راولپنڈی کی معروف لال کرتی زیرِ بحث نہیں، بلکہ لاہور کینٹ میں CMH کے ساتھ واقع وہ علاقہ مراد ہے جس کی پرانی شناخت لال کرتی سے جڑی ہوئی ہے اور جسے آج زیادہ تر عسکری بازار کے نام سے جانا جاتا ہے۔ لاہور کے علاقائی ریکارڈ میں آج بھی "Lal Kurti CMH"، "Basti Esaiyan Lal Kurti" اور "Quarters CMH Lal Kurti" جیسے نام ملتے ہیں۔
یہ محض ایک نام نہیں، لاہور کے نوآبادیاتی ماضی کی ایک چھوٹی سی کھڑکی ہے۔
1849ء میں پنجاب کے برطانوی الحاق کے بعد لاہور کی شہری ساخت تیزی سے تبدیل ہونے لگی۔ ابتدا میں برطانوی فوجی انتظام انارکلی کے علاقے میں تھا، جہاں موجود عمارتیں فوجی قیام اور انتظامی مقاصد کے لیے استعمال ہوئیں۔ بعد ازاں فوجی چھاؤنی کو شہر سے دور میاں میر منتقل کیا گیا۔ پرانے تاریخی حوالوں میں اس منتقلی کو صحت اور صفائی کے مسائل سے بھی جوڑا گیا........
