Kamil Mureed
لاکھوں کروڑوں درود و سلام سرکار ﷺ کی ذات اقدس پر۔
مرشد کے لغوی معنی رہبر کے ہیں۔ مرید اور پیر میں جو تعلق ہے اس میں پہلی شرط ادب ہے، ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں، تو اس تعلق میں سب سے پہلی شرط ادب ہے، ادب کو سمجھنے کے لیے ایک چھوٹا سا واقعہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ ایک محفل میں کچھ لوگ بیٹھے تھے تو پیر صاحب نے اپنے مرید سے کہا کہ کھڑے ہو جاؤ مرید کھڑا ہوگیا اور پیر صاحب دوسرے لوگوں کے ساتھ محو گفتگو ہو گئے، جب پیر صاحب کی نظر اپنے مرید پر پڑی جو کہ ان کے حکم کے مطابق ہاتھ باندھے کھڑا تھا تو انہوں نے فرمایا کہ بیٹھ جاؤ آپ کیوں کھڑے ہو، اب یہاں پر عام طور پر جواب تو یہی بنتا ہے کہ جی پیر صاحب آپ نے فرمایا تھا کہ کھڑے ہو جاؤ اس لیے کھڑا ہوں، لیکن ادب کا تقاضا یہ ہے کہ کوئی جواب نہ دیا جائے اور جیسے حکم صادر ہوا ہے اس کے مطابق بیٹھ جایا جائے، اس چھوٹی سی مثال سے ادب کی سطح سمجھ میں اتی ہے کہ پیر اور مرید کے درمیان کس سطح کہ ادب و آداب ہونے چاہیے۔
اج کل نوجوان نسل میں سوال کرنے کی بہت طلب ہوتی ہے جو کہ ایک سطح پر اچھی بات ہے، لیکن طریقت یا روحانیت میں سوال کرنے والے کو فیض نہیں ملتا یہ قدرت کا عجب کھیل ہے........
