Insan Khasare Mein Hai
لاکھوں کروڑوں درود و سلام آپ سرکار ﷺ کی ذاتِ اقدس پر۔
قران پاک میں ارشاد ہے، (قسم ہے زمانے کی کہ انسان خسارے میں ہیں) سورہ العصر، اگر انسان خسارے میں ہے تو تم انسان بن کیوں جاتے ہو، جبکہ تمہیں اللہ تعالی نے پیدا فرمایا ہے فطرت پر۔ جب ایک انسان پیدا ہوتا ہے تو وہ دینِ فطرت پہ پیدا ہوتا ہے۔ خیر اور شر کی پہچان اُس کے وجود میں ودیعت کر دی جاتی ہے۔ لیکن جوں جوں وقت گزرتا ہے وہ اپنے اندر کے انسان ہونے کے خصائص بڑھاتا چلا جاتا ہے۔
ایک معصوم بچہ بالکل ایک چڑیا کی مانند ہوتا ہے۔ جب بھوک لگتی ہے روتا ہے، دودھ ملنے پر چپ کر جاتا ہے، چڑیا بھی جب صبح اپنے دانے دنکے کے لیے نکلتی ہے تو اس کو دوسرے دن کی فکر نہیں ہوتی۔ اسی طرح بچے کو بھی اگلی بھوک کی فکر نہیں ہوتی، فطرت اُس کی ماں میں جذبہء محبت پیدا کر دیتی ہے جو اس کی خوراک اور دیکھ بھال کی ذمہ دار ٹھہرتی ہے۔ گویا اس کا رونا ایک فطری عمل ہے، جب اُس کا جسم بھوکا ہوتا ہے۔ جوں جوں وقت........
