اداریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان ملاقات کے بعد جاری مشترکہ اعلامیہ میں پاکستان سے اپنی زمین سرحد پار دہشت گردی کیلئے استعمال ہونے سے روکنے کا واقعاتی صورت حال کے قطعی منافی مطالبہ ہر حقیقت پسند شخص کیلئے بالکل ناقابل فہم ہے۔ اس سے واضح ہے کہ امریکہ کی موجودہ قیادت نے معاشی مفادات کی خاطر عالمی دہشت گردی میں بھارت کے مکروہ کردار اور مقبوضہ کشمیر میں اس کی آئین شکنی اور مظالم سمیت انصاف کے تقاضوں کو مکمل طور پر نظر انداز کردیا ہے۔ مشترکہ پریس کانفرنس میں امریکہ کی طرف سے بھارت کواربوں ڈالر کے جدید ہتھیاروں اورجوہری ری ایکٹروں کی فروخت کے منصوبے کا اعلان خطے کے امن و استحکام کیلئے یقینی طور پر سنگین خطرہ ثابت ہوگا ۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے مشترکہ اعلامیے میں پاکستان سے متعلق حوالے کوبجا طور پر ’’یکطرفہ، گمراہ کن اور سفارتی اصولوں کے منافی‘‘ قرار دیتے ہوئے اس حقیقت کی نشان دہی کی ہے کہ اس طرح خطے میں اور اس سے باہر دہشت گردی، تخریب کاری اور ماورائے عدالت قتل کی وارداتوں کی بھارتی سرپرستی پر پردہ نہیں ڈالا جا سکتا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے پریس بریفنگ میں مزید کہا کہ امریکہ کے ساتھ انسداد دہشت گردی میں مکمل تعاون کے باوجود پاکستان کا حوالہ اس تلخ حقیقت کو چھپا نہیں سکتا کہ بھارت مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم کے مرتکب عناصر کیلئے محفوظ پناہ گاہ ہے۔ انہوںنے اس امر کو بھی واضح کیا کہ........
© Daily Jang
